Articles
اللّہ پر توکل (بھروسہ کرنا) انبیاء کرام کا خصوصی شعار
- March 13, 2021
- Posted by: admin
- Category: Islamic Post
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم
اَلْحَمْدُ لِلّهِ رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلامُ عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔
اللّہ پر توکل (بھروسہ کرنا) انبیاء کرام کا خصوصی شعار
کیا روزی روٹی کے لیے ہماری جد وجہد کرنا توکل کے خلاف ہے؟
اللہ تعالیٰ پر توکل یعنی بھروسہ کرنا انبیاء کرام کے طریقہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا حکم بھی ہے۔ قرآن وحدیث میں توکل علی اللہ کا بار بار حکم دیا گیا ہے۔ صرف قرآن کریم میں سات مرتبہ ’’وَعَلَی اللّٰہِ فَلْيَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْن‘‘ فرماکر مؤمنوں کو صرف اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کی تاکید کی گئی ہے، یعنی حکم خداوندی ہے کہ اللہ پر ایمان لانے والوں کو صرف اللہ ہی کی ذات پر بھروسہ کرنا چاہئے۔۔۔ آئیے سب سے قبل توکل کے معنی سمجھیں۔ توکل کے لفظی معنی کسی معاملہ میں کسی ذات پر اعتماد کرنے کے ہیں، یعنی اپنی عاجزی کا اظہار اور دوسرے پر اعتماد اور بھروسہ کرنا توکل کہلاتا ہے۔ شرعی اصطلاح میں توکل کا مطلب: اس یقین کے ساتھ اسباب اختیار کرنا کہ دنیاوی واخروی تمام معاملات میں نفع ونقصان کا مالک صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس کے حکم کے بغیر کوئی پتا درخت سے نہیں گر سکتا۔ ہر چھوٹی بڑی چیز اپنے وجود اور بقا کے لیے اللہ کی محتاج ہے۔ غرضیکہ خالق کائنات کی ذات باری پر مکمل اعتماد کرکے دنیاوی اسباب اختیار کرنا توکل علی اللہ ہے۔ اگر کوئی شخص بیمار ہوجائے تو اسے مرض سے شفایابی کے لیے دوا کا استعمال تو کرنا ہے لیکن اس یقین کے ساتھ کہ جب تک اللہ تعالیٰ شفا نہیں دے گا دوا اثر نہیں کرسکتی۔ یعنی دنیاوی اسباب کو اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا نظام یہی ہے کہ بندہ دنیاوی اسباب اختیار کرکے کام کی انجام دہی کے لیے اللہ تعالیٰ کی ذات پر پورا بھروسہ کرے، یعنی یہ یقین رکھے کہ جب تک حکم خداوندی نہیں ہوگا اسباب اختیار کرنے کے باوجود شفا نہیں مل سکتی۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: کیا اونٹی کو باندھ کر توکل کروں یا بغیر باندھے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: باندھو اور اللہ پر بھروسہ کرو۔ (ترمذی ۔کتاب صفۃ القیامۃ) حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اہل یمن بغیر سازوسامان کے حج کرنے کے لیے آتے اور کہتے کہ ہم اللہ پر توکل کرتے ہیں۔ لیکن جب مکہ مکرمہ پہنچتے تو لوگوں سے سوال کرنا شروع کردیتے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی آیت (سورۃ البقرۃ ۱۹۷) نازل فرمائی: حج کے سفر میں زادِ راہ ساتھ لے جایا کرو۔ صحیح بخاری
جو بھی اسباب مہیا ہوں انہیں اس یقین کے ساتھ اختیار کرنا چاہئے کہ کرنے والی ذات صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔حضرت ایوب علیہ السلام نے جب اپنی طویل بیماری کے بعد اللہ تعالیٰ سے شفایابی کے لیے دعا فرمائی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اپنے پیر کو زمین پر ماریں۔ اب غور کرنے کی بات ہے کہ کیا ایک شخص کا زمین پر پیر مارنا اس کی بیسیوں سال کی بیماری کی شفا یابی کا علاج ہے؟ نہیں۔ لیکن انہوں نے اللہ کے حکم سے یہ کمزور سبب اختیار کیا، جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان کے زمین پر پیر مارنے سے پانی کا ایسا چشمہ جاری کردیا جس سے غسل کرنے پر حضرت ایوب علیہ السلام کی بیسیوں سال کی بدن کی متعدد بیماریاں ختم ہوگئیں ۔ حضرت ایوب علیہ السلام کے اس واقعہ کی تفصیلات کے لیے سورۃ الانبیاء آیت ۸۳ و ۸۴ اور سورۃ ص آیت ۴۱ سے ۴۴ کی تفسیر کا مطالعہ کریں۔ حضرت ایوب علیہ السلام کے اس واقعہ سے ہمیں متعدد سبق ملے، دو اہم سبق یہ ہیں۔ پہلا سبق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ارادہ سے بھی حضرت ایوب علیہ السلام کو شفا دے سکتے تھے مگر دنیا کے دار الاسباب ہونے کی وجہ سے حضرت ایوب علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ کچھ حرکت کریں یعنی کم از کم اپنے پیر کو زمین پر ماریں۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ جو بھی اسباب مہیا ہوں ان کو اس یقین کے ساتھ اختیار کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکم سے کمزور اسباب کے باوجود کسی بڑی سے بڑی چیز کا بھی وجود ہوسکتا ہے۔
حضرت مریم علیہا السلام نے جب اللہ کے حکم سے بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جنا تو اُن کے لیے حکم خداوندی ہوا کہ کھجور کے تنے کو ہلائیں یعنی حرکت دیں، اُس سے جب پکی ہوئی تازہ کھجوریں جھڑیں تو ان کو کھائیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے حضرت مریم علیہا السلام کو بغیر کسی سبب کے بھی کھجور کھلا سکتے تھے لیکن دنیا کے دار الاسباب ہونے کی وجہ سے حکم ہوا کہ کھجور کے تنے کو اپنی طرف ہلاؤ۔ چنانچہ حضرت مریم علیہا السلام نے حکم خداوندی کی تعمیل میں کھجور کے تنے کو حرکت دی۔ کھجور کا تنا اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ چند طاقت ور مرد حضرات بھی اسے آسانی سے نہیں ہلاسکتے ہیں لیکن صنف نازک نے اس کمزور سبب کو اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے سوکھے ہوئے کھجور کے درخت سے حضرت مریم علیہا السلام کے لیے تازہ کھجوریں یعنی غذا کا انتظام کردیا۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ جو بھی اسباب مہیّا ہوں اللہ پر توکل کرکے اُنہیں اختیار کرنا چاہئے۔
اسباب تو ہمیں اختیار کرنے چاہئیں لیکن ہمارا بھروسہ اللہ کی ذات پر ہونا چاہئے کہ وہ اسباب کے بغیر بھی چیز کو وجود میں لاسکتا ہے اور اسباب کی موجودگی کے باوجود اس کے حکم کے بغیر کوئی بھی چیز وجود میں نہیں آسکتی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جلتی ہوئی آگ میں ڈالا گیا، جلانے کے سارے اسباب موجود تھے مگر حکم خداوندی ہوا کہ آگ حضرت ابراہیم کے لیے سلامتی بن جائے تو آگ نے انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچایا، بلکہ وہ آگ جو دوسروں کو جلادیتی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی کا سبب بن گئی۔ اسی طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن پر طاقت کے ساتھ تیز چھری چلائی گئی مگر چھری بھی کاٹنے میں اللہ کے حکم کی محتاج ہوتی ہے، اللہ نے اُس چھری کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن کو نہ کاٹنے کا حکم دے دیا تھا، لہٰذا کاٹنے کے اسباب کی موجودگی کے باوجود چھری حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن نہیں کاٹ سکی۔
اسباب وذرائع ووسائل کا استعمال کرنا منشائے شریعت اور حکم الٰہی ہے۔حضور اکرم ﷺ نے اسباب ووسائل کو اختیار بھی فرمایا اور اس کا حکم بھی دیا خواہ لڑائی ہو یا کاروبار۔ ہر کام میں حسب استطاعت اسباب کا اختیار کرنا ضروری ہے۔ لہٰذا جائز وحلال طریقہ پر اسباب ووسائل کو اختیار کرنا ، پھر اللہ کی ذات پر کامل یقین کرنا توکل علی اللہ کی روح ہے۔ اگر توکل علی اللہ کا مطلب یہ ہوتا کہ صرف اللہ کی مدد ونصرت پر یقین کرکے بیٹھ جائیں تو سب سے پہلے قیامت تک آنے والے انس وجن کے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ اس پر عمل کرتے حالانکہ آپ ﷺ نے ایسا نہیں کیا اور نہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ایسا کوئی حکم دیا بلکہ دشمنوں کے مقابلہ کے لیے پہلے پوری تیاری کرنے کی تاکید فرمائی۔
جیسا کہ عرض کیا گیا کہ قرآن کریم میں اللہ پر توکل یعنی بھروسہ کرنے کی بار بار تاکید کی گئی ہے۔ اختصار کے مد نظر یہاں صرف چند آیات کا ترجمہ پیش کررہا ہوں۔ ’’ تم اُس ذات پر بھروسہ کرو جو زندہ ہے، جسے کبھی موت نہیں آئے گی‘‘ (سورۃ الفرقان ۵۸) ’’جب تم کسی کام کے کرنے کا عزم کرلو تو اللہ پر بھروسہ کرو‘‘ (سورۃ آل عمران ۱۵۹) ’’جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے‘‘ (سورۃ الطلاق ۳) ’’بے شک ایمان والے وہی ہیں جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل نرم پڑجاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ آیات ان کے ایمان میں اضافہ کردیتی ہیں اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ کرتے ہیں‘‘ (سورۃ الانفال ۳) ۔
ہمارے نبی نے بھی متعدد مرتبہ اللہ پر توکل کرنے کی تعلیم دی ہے، فی الحال صرف ایک حدیث پیش ہے: حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر تم اللہ پر توکل کرتے جیسے توکل کا حق ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ تم کو اس طرح رزق عنایت فرماتے جیسا کہ پرندوں کو دیتا ہے کہ صبح سویرے خالی پیٹ نکلتے اور شام کو پیٹ بھر کر واپس لوٹتے ہیں۔ (ترمذی) مشاہدہ ہے کہ پرندوں کو بھی رزق حاصل کرنے کے لیے اپنے گھونسلوں سے نکلنا پڑتا ہے، لیکن رزق دینے والی ذات صرف اور صرف اللہ ہی کی ہے۔
جب کفار مکہ اُحد کی جنگ سے واپس چلے گئے توراستے میں انہیں پچھتاوا ہوا کہ ہم جنگ میں غالب آجانے کے باوجود خوا ہ مخواہ واپس آگئے، اگر ہم کچھ اور زور لگاتے تو تمام مسلمانوں کا خاتمہ ہوسکتا تھا۔ اس خیال کی وجہ سے انہوں نے مدینہ منورہ کی طرف لوٹنے کا ارادہ کیا۔ دوسری طرف حضور اکرم ﷺ نے اُن کے ارادہ سے باخبر ہوکر اُحد کے نقصانات کی تلافی کے لیے جنگ اُحد کے اگلے دن صبح سویرے صحابہ میں یہ اعلان فرمایا کہ ہم دشمن کے تعاقب میں جائیں گے، اور جو لوگ جنگ اُحد میں شریک تھے صرف وہ ہمارے ساتھ چلیں۔ صحابۂ کرام جنگ کی وجہ سے زخمی اور بہت زیادہ تھکے ہوئے تھے لیکن انہوں نے آپ ﷺ کی دعوت پر لبیک کہا۔ حضور اکرم ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ مدینہ منورہ سے حمراء الاسد کے مقام پر پہنچے تو قبیلہ خزاعہ کے ایک شخص نے مسلمانوں کے حوصلے کا خود مشاہدہ کیا۔ بعد میں اس شخص کی ملاقات کفار مکہ کے سردار ابوسفیان سے ہوئی تو اس نے مسلمانوں کے حوصلے کے متعلق بتایا اور مکہ مکرمہ واپس جانے کا مشورہ دیا۔ اس سے کفار پر رعب طاری ہوا اور وہ واپس مکہ مکرمہ چلے گئے مگر ابوسفیان نے ایک شخص کے ذریعہ مسلمانوں کے لشکرمیں یہ خبر (جھوٹی) پہنچادی کہ ابوسفیان بہت بڑا لشکر جمع کرچکا ہے اور وہ مسلمانوں کا خاتمہ کرنے کے لیے ان پر حملہ کرنے والا ہے۔ اس پر صحابۂ کرام ڈرنے کے بجائے بول اٹھے: حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِےْل ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔ (سورۃ آل عمران ۱۷۳) یہی توکل ہے۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں حضور اکرم ﷺ کے ساتھ تھے۔ جب ہم ایک گھنے سایہ دار درخت کے پاس آئے تو اس درخت کو ہم نے رسول اللہ ﷺ کے لیے چھوڑ دیا۔ مشرکین میں سے ایک شخص آیا اور حضور اکرم ﷺ کی درخت سے لٹکی ہوئی تلوار اس نے لے لی اور سونت کر کہنے لگا: کیا تم مجھ سے ڈرتے ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: نہیں۔ اس نے کہا کہ تمہیں مجھ سے کون بچائے گا ؟ آپ ﷺ نے کہا: اللہ۔ اس پر تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی۔ آپ ﷺ نے وہ تلوار پکڑ کر فرمایا۔ تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ اس نے کہا تم بہتر تلوار پکڑنے والا بن جاؤ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تو لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دیتا ہے؟ اس نے کہا نہیں، لیکن میں آپ سے یہ عہد کرتا ہوں کہ نہ میں آپ سے لڑوں گا اور نہ میں اُن لوگوں کا ساتھ دوں گا جو آپ سے لڑتے ہیں۔ آپ ﷺ نے اس کا راستہ چھوڑ دیا۔ وہ شخص اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہنے لگا میں ایسے شخص کے پاس سے آیا ہوں جو لوگوں میں سب سے بہتر ہے۔ مسند احمد، یہ واقعہ الفاظ کے فرق کے ساتھ بخاری ومسلم بھی موجود ہے۔
خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے مشرکین کے قدم دیکھے جب کہ ہم غار (ثور) میں تھے۔ وہ ہمارے سروں کے اوپر کھڑے تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر ان میں سے کوئی اپنے قدموں کی نچلی جانب دیکھے تو وہ ہمیں دیکھ لے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اے ابوبکر! تیرا ان دو کے متعلق کیا گمان ہے کہ اللہ جن کا تیسرا ہے۔ بخاری ومسلم
توکل علی اللہ کے حصول کے لیے ایک دعا: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص گھر سے نکلتے وقت یہ دعا پڑھے: ’’بِسْمِ اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ میں اللہ کا نام لے کر گھر سے نکلتا ہوں اور اللہ پر بھروسہ کرتا ہوں، اور نہ کسی بھی کام کی قدرت میسر آسکتی ہے نہ قوت مگر اللہ تعالیٰ کی مدد سے‘‘ تو اس کو کہہ دیا جاتا ہے تو نے ہدایت پائی ، تیری کفالت کردی گئی، تجھے ہر شر سے بچادیا گیا اور شیطان اس سے دور ہٹ جاتاہے۔ (ابوداود، ترمذی)
انبیاء علیھم السلام اور صالحین کے توکل کی مثالیں
محمد ﷺ کا توکل
ذرا نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ پر غور کیجئے کہ آپ ﷺ اپنی متعدد طویل جنگوں کے ہر معرکہ کی تیاری فرماتے ہیں اور اس کے لئے تمام اسباب و ذرائع کو مہیا کرتے ہیں، یہانتک کہ مقام معرکہ اور اس کے سارے اوقات میں بھی آپ کا یہی اسوہ رہتا ہے اور کسی بھی غزوہ کی پیش قدمی گرمی میں نہ فرماتے تاآنکہ موسم معمول پر آجاتا اور دن کے آخری وقت میں ہوا میں نرمی و لطافت پیدا ہوجاتی اور اپنا مکمل نقشہ تیار فرمالیتے اپنی فوج کی صف بندی کرلیتے اور جب غزوہ کی کامیابی و کامرانی کے لئے تمام مطلوب مادی اسباب سے فارغ ہوجاتے تو بارگاہ ایزدی میں اپنے دونوں ہاتھ اٹھا دیتے اور یوں دعاگو ہوتے:
“اللهم منزل الكتاب ومجري السحاب وهازم الأحزاب اهزمهم وانصرنا عليهم” ” اے اللہ ! کتاب (قرآن) کے نازل فرمانے والے ‘ اے بادلوں کے چلانے والے ! اے احزاب (یعنی کافروں کی جماعتوں کو غزوہ خندق کے موقع پر) شکست دینے والے ! ہمارے دشمن کو شکست دے اور ان کے مقابلے میں ہماری مدد کر ۔“ (22)
مادی و روحانی اسباب کے درمیان جمع کرنے کے تئیں نبی کریم ﷺ کا یہی اسوہ رہا اور اس کے بعد اس امر کی کامیابی کو اپنے پروردگار کی جناب میں پیش فرمادیتےاور اس کی فوز و فلاح کو اپنے مولائے اعلی کی مشیئت کے تابع کردیتے۔
جیسا کہ آپ ﷺ نے مدینہ منورہ کی جانب اس وقت تک ہجرت نہیں کی تاآنکہ آپ کو اپنے پروردگار کا حکم موصول ہوا جبکہ آپ کے بیشتر صحابہ کرام مدینہ کی جانب ہجرت کرچکے تھے، غور طلب امر یہ ہے کہ ہجرت کا حکم آنے پر آپ ﷺ نے جن ترتیبات کو ملحوظ رکھا وہ درج ذیل ہیں:
1۔ اپنے بہترین رفقاء میں سے صحابی جلیل ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتخاب فرمایا تاکہ وہ آپ کے دار الھجرت کے راہی بنیں۔
2۔ ھجرت کے راستہ میں زاد سفر کے طور پر کھانے اور پینے کی اشیاء اپنے ہمراہ رکھنے کے لئے تیار کروائیں جو اسماء بنت ابی بکر نے اپنے دامن و پلو میں باندھ کر حوالہ کیا اور اسی بناء پر انہیں ‘ذات النطاقین’ کا لقب دیا گیا۔
3۔ اس طویل اور دشوار گذار سفر کے لئے ایک عمدہ سواری تیار کروائی۔
4۔ اس سخت صعوبتوں سے بھرے ہوئےسفر میں ایک رہبر و رہنما کے طور پر راستوں کی ہر راہ کے جغرافیائی نقشہ سے واقف ایک ماہر ترین شخص کی خدمات حاصل کیں۔
5۔ جب آپ ﷺ نے اپنے اس مکان سے نکلنے کا ارادہ فرمایا جس کا مشرکین مکہ نے محاصرہ کر رکھا تھا، آپ ﷺ نے اپنے چچا کے بیٹے علی ابن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہدایت دی کہ وہ آپ کے بستر پر آرام کریں تاکہ دشمنان دین اس گمان میں انتطار کرتے رہ جائیں کہ آپ اپنے مکان سے نکلیں گےتاکہ آپ کا کام تمام کردیں پھر آپ مکان سے ایسے نکل آئے کہ دروازے کے سوراخوں سے جھانک جھانک کر دیکھنے والی اور آپ کی تاک میں بیٹھی قوم دیکھتے ہی رہ گئی۔
6۔ جب مشرکین نے آپ کی تلاش شروع کی اور شد و مد کے ساتھ آپ کا اور آپ کے ساتھی ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا پیچھا شروع کردیا تو آپ اور صدیق اکبر نے غار ثور میں پناہ لے لی تاکہ آپ کے سخت ترین دشمنوں کی نگاہوں سے محفوظ رہیں۔
7۔ جب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ سے کہا کہ :یا رسول اللہ ! اگر ان میں سے کسی نے ذرا بھی قدم اٹھائے تو وہ ہم کو دیکھ لے گا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو کیا سمجھتا ہے ان دو آدمیوں کو (کوئی نقصان پہنچا سکے گا) جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہو ۔(23)
اس واقعہ سے ایمان اور توکل کے تمام حقائق بہ ایک وقت بالکل واضح ہوگئے، جس میں اس بات کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اسباب کے استعمال کو ناپسند نہیں کررہے ہیں اور نہ ہی انہیں پر آپ اعتماد کا اظہار فرمارہے ہیں اور جب آپ نے نجات کے حصول کے تئیں تمام وسائل کواس حد تک بروئے کار لایا کہ آپ ایسے تاریک ترین غار میں پہنچ گئے جو بچھوؤں اور سانپوں کا مسکن ہوتا ہے، ایسے مقام پر آپ پورے ایمانی یقین اور بھروسہ کے ساتھ بلاکسی خوف کے فرمایا:غم نہ کرو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے، تو کیا سمجھتا ہے ان دو آدمیوں کو (کوئی نقصان پہنچا سکے گا) جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہو ۔
اس نبوی ہدایت اور محمدی تعلیمات سے ایک مسلمان ان اسباب کو اختیار کرتا ہے اور اس طرح وہ نہ تو بدعتی ہوتا ہے اور نہ ہی دین میں کسی طرح کا مبالغہ کرنے والا ہوگابلکہ وہ اسوہ نبوی ﷺ کی اقتداء و اتباع کرنے والا ہوگا۔
مسلمان کے نزدیک خود اعتمادی کا وہ مفہوم نہیں ہوتا جو گناہوں میں آلودہ افراد سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے رشتہ و تعلق کو توڑ دیا جائے اور یہ کہ بندہ ہی اپنے اعمال کا خالق، اپنے کسب و کمائی کو بروئے کار لانے والاہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کا کوئی دخل نہیں، اللہ تعالیٰ ان عقائد سے برتر و اعلی سے جو یہ خیال کئے ہوئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے غزوہ احد میں عبداللہ بن ابی منافق کا بعض منافقین کو لے کر واپس لے جانے کے بعد پست ہمتی کا شکار ہونے والے صحابہ کرام کی ہمت افزائی اور ثبات قدمی کی تاکیدکرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
إِذْ هَمَّت طَّائِفَتَانِ مِنكُمْ أَن تَفْشَلَا وَاللَّـهُ وَلِيُّهُمَا ۗوَعَلَى اللَّـهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ ﴿١٢٢﴾(سورۃ آل عمران)
“جب تمہاری دو جماعتیں پست ہمتی کا اراده کر چکی تھیں، اللہ تعالیٰ انکا ولی اور مددگار ہے۔ اور اسی کی پاک ذات پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے۔”
وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ ۖفَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ ۚإِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ(سورۃ آل عمران 159)
“اور کام کا مشوره ان سے کیا کریں، پھر جب آپ کا پختہ اراده ہو جائے تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں،بے شک اللہ تعالیٰ توکل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔”
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کا حکم دیتا ہے کہ جب وہ اس بات کا عزم و مصمم ارادہ کرلیں کہ کسی معاملہ کو انجام تک پہنچائیں تو کر گزرئیے اور ان کے مشوروں پر بھروسہ کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی ذات ہی پر توکل کریں اور کسی معاملہ کو پائے تکمیل تک پہنچائے کے لئے کئے جانے والے ارادہ کو عزم کہتے ہیں اور کسی معاملہ میں عمدہ انداز میں غور و خوض کرنے اور اس کی مکمل چھان بین اور اس میں کسی قسم کی غلطی سےبچنے کو حزم کہتے ہیں اور باہمی مشاورت کرنے ہی کا نام حزم ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد ﷺ کا بار بار اسی امر کا حکم دیتے ہوئے ڈھارس بندھاتا رہا کہ آپ بس اسی ذات واحد پر توکل و اعتماد کریں کیونکہ وہی حقیقی کارساز ہے:
قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِلَّا مَن شَاءَ أَن يَتَّخِذَ إِلَىٰ رَبِّهِ سَبِيلًا ﴿٥٧﴾ وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِهِ ۚوَكَفَىٰ بِهِ بِذُنُوبِ عِبَادِهِ خَبِيرًا ﴿ ٥٨﴾ (سورۃ الفرقان)
“کہہ دیجئے کہ میں قرآن کے پہنچانے پر تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتا مگر جو شخص اپنے رب کی طرف راه پکڑنا چاہے (57) اس ہمیشہ زنده رہنے والے اللہ تعالیٰ پر توکل کریں جسے کبھی موت نہیں اور اس کی تعریف کے ساتھ پاکیزگی بیان کرتے رہیں، وه اپنے بندوں کے گناہوں سے کافی خبردار ہے۔”
وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَالْمُنَافِقِينَ وَدَعْ أَذَاهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّـهِ ۚوَكَفَىٰ بِاللَّـهِ وَكِيلًا ﴿ ٤٨﴾ (سورۃ الاحزاب)
“اور کافروں اور منافقوں کا کہنا نہ مانیئے! اور جو ایذا (ان کی طرف سے پہنچے) اس کا خیال بھی نہ کیجیئے اللہ پر بھروسہ کئے رہیں، اور کافی ہے اللہ تعالیٰ کام بنانے والا ۔”
شعیب علیہ السلام کے اس قول پر ذرا غور فرمائیے:
“وَمَا يَكُونُ لَنَا أَن نَّعُودَ فِيهَا إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ رَبُّنَا ۚوَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَيْءٍ عِلْمًا ۚعَلَى اللَّـهِ تَوَكَّلْنَا” (سورۃ الاعراف 89)
نیزاللہ تعالیٰ نے شعیب علیہ السلام کا قول نقل فرمایا:
“وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَىٰ مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ ۚإِنْ أُرِيدُ إِلَّا الْإِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ ۚوَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّـهِ ۚعَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ﴿ ٨٨﴾” (سورۃ ھود)
“اور ہم سے ممکن نہیں کہ تمہارے مذہب میں پھر آجائیں، لیکن ہاں یہ کہ اللہ ہی نے جو ہمارا مالک ہے مقدر کیا ہو۔ ہمارے رب کا علم ہر چیز کو محیط ہے، ہم اللہ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔”
“میرا یہ اراده بالکل نہیں کہ تمہارے خلاف کر کے خود اس چیز کی طرف جھک جاؤں جس سے تمہیں روک رہا ہوں، میرا اراده تو اپنی طاقت بھر اصلاح کرنے کا ہی ہے۔ میری توفیق اللہ ہی کی مدد سے ہے، اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔”
موسیٰ علیہ السلام کا توکل
فَمَا آمَنَ لِمُوسَىٰ إِلَّا ذُرِّيَّةٌ مِّن قَوْمِهِ عَلَىٰ خَوْفٍ مِّن فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِمْ أَن يَفْتِنَهُمْ ۚوَإِنَّ فِرْعَوْنَ لَعَالٍ فِي الْأَرْضِ وَإِنَّهُ لَمِنَ الْمُسْرِفِينَ ﴿٨٣﴾ وَقَالَ مُوسَىٰ يَا قَوْمِ إِن كُنتُمْ آمَنتُم بِاللَّـهِ فَعَلَيْهِ تَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّسْلِمِينَ ﴿٨٤﴾ فَقَالُوا عَلَى اللَّـهِ تَوَكَّلْنَا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ ﴿٨٥﴾ وَنَجِّنَا بِرَحْمَتِكَ مِنَ الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ﴿ ٨٦﴾ (سورۃ یونس)
“پس موسیٰ (علیہ السلام) پر ان کی قوم میں سے صرف قدرے قلیل آدمی ایمان لائے وه بھی فرعون سے اور اپنے حکام سے ڈرتے ڈرتے کہ کہیں ان کو تکلیف پہنچائے اور واقع میں فرعون اس ملک میں زور رکھتا تھا، اور یہ بھی بات تھی کہ وه حد سے باہر ہو جاتا تھا (83) اور موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے میری قوم! اگر تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو (84) انہوں نے عرض کیا کہ ہم نے اللہ ہی پر توکل کیا۔ اے ہمارے پروردگار! ہم کو ان ظالموں کے لئے فتنہ نہ بنا (85) اور ہم کو اپنی رحمت سے ان کافر لوگوں سے نجات دے (86)۔”
ھود علیہ السلام کا توکل
“قَالَ إِنِّي أُشْهِدُ اللَّـهَ وَاشْهَدُوا أَنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ ﴿٥٤﴾ مِن دُونِهِ ۖفَكِيدُونِي جَمِيعًا ثُمَّ لَا تُنظِرُونِ ﴿٥٥﴾ إِنِّي تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّـهِ رَبِّي وَرَبِّكُم ۚمَّا مِن دَابَّةٍ إِلَّا هُوَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهَا ۚإِنَّ رَبِّي عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿ ٥٦﴾”(سورۃ ھود)
“اس نے جواب دیا کہ میں اللہ کو گواه کرتا ہوں اور تم بھی گواه رہو کہ میں تو اللہ کے سوا ان سب سے بیزار ہوں، جنہیں تم شریک بنا رہے ہو (54) اچھا تم سب مل کر میرے خلاف چالیں چل لو اور مجھے بالکل مہلت بھی نہ دو (55) میرا بھروسہ صرف اللہ تعالیٰ پر ہی ہے، جو میرا اور تم سب کا پروردگار ہے جتنے بھی پاؤں دھرنے والے ہیں سب کی پیشانی وہی تھامے ہوئے ہے۔ یقیناً میرا رب بالکل صحیح راه پر ہے ۔”
صالحین کا توکل
“قَالَ رَجُلَانِ مِنَ الَّذِينَ يَخَافُونَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِمَا ادْخُلُوا عَلَيْهِمُ الْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوهُ فَإِنَّكُمْ غَالِبُونَ ۚوَعَلَى اللَّـهِ فَتَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ﴿ ٢٣﴾ (سورۃ المائدہ )
“دو شخصوں نے جو خدا ترس لوگوں میں سے تھے، جن پر اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہا کہ تم ان کے پاس دروازے میں تو پہنچ جاؤ، دروازے میں قدم رکھتے ہی یقیناً تم غالب آجاؤ گے، اور تم اگر مومن ہو تو تمہیں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے۔”
اللہ تعالیٰ کے اس قول پرذرا غور فرمائیے:” اور تم اگر مومن ہو تو تمہیں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے۔”
اللہ تعالیٰ نے آل فرعون میں پائے جانے والے رجل مومن کے قول کو نقل کرتے ہوئے فرمایا:
فَسَتَذْكُرُونَ مَا أَقُولُ لَكُمْ ۚوَأُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّـهِ ۚإِنَّ اللَّـهَ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ ﴿ ٤٤﴾ فَوَقَاهُ اللَّـهُ سَيِّئَاتِ مَا مَكَرُوا” (سورۃ غافر44،45)
“پس آگے چل کر تم میری باتوں کو یاد کرو گے میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، یقیناً اللہ تعالیٰ بندوں کا نگراں ہے (44) پس اسے اللہ تعالیٰ نے تمام بدیوں سے محفوظ رکھ لیا جو انہوں نے سوچ رکھی تھیں۔”
ایسے مومنین کے تئیں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
إِنَّهُ لَيْسَ لَهُ سُلْطَانٌ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ﴿٩٩﴾ (سورۃ النحل)
“ایمان والوں اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھنے والوں پر اس کا زور مطلقاً نہیں چلتا۔”
مذکورہ بالا آیات کے سیاق سے یہ بات عیاں ہوگئی کہ توکل کے حکم کا مقصد یہ ہے کہ دلوں میں ثابت قدمی کو جمادیا جائے اور خوف و ہراس کے احساسات کا خاتمہ کردیا جائے اور اللہ تعالیٰ کی ذات ہی پر توکل کرتے ہوئے اپنے ارادوں کو پائے تکمیل تک پہنچادیا جائے۔